بالی[1]
معنی
١ - کم عمر کی، نوخیز، ایانی۔ فاقے سے تین دن کے ہیں خود تیرے میہماں فرط عطش سے بالی سکینہ ہے نیمجاں ( ١٩٣٨ء، مراثی نسیم، ٣٨٩:٢ ) ٢ - [ تابع ] بھولی کنواری یا لڑکی وغیرہ کا تابع (متبوع کے معنی میں)۔ "خدا رکھے اتنی لڑکیاں بالیاں ہیں افطاری بننے میں کیا دیر لگتی ہے۔" ( ١٩٥٢ء، افشاں، ٥٩ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم 'بال' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ صفت لگنے سے 'بالی' بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے اور گاہے بطور تابع مہمل بھی مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - [ تابع ] بھولی کنواری یا لڑکی وغیرہ کا تابع (متبوع کے معنی میں)۔ "خدا رکھے اتنی لڑکیاں بالیاں ہیں افطاری بننے میں کیا دیر لگتی ہے۔" ( ١٩٥٢ء، افشاں، ٥٩ )